کہانی: انما الاعمال بالنيات

(یہ کہانی بیک وقت بچوں اور ان کے والدین کیلئے ہے)

کہانی: انما الاعمال بالنيات


عبد اللہ آج صبح سے ایک جملہ دوہرائی جا رہا تھا۔ انما الاعمال بالنیات شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ بار بار ایک ہی جملہ بول رہا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے کھیلتے ہوئے۔
 اس کی والدہ نے پہلے دھیان نہیں دیا لیکن جب یہ گردان مسلسل چلی تو ان کی توجہ بھی ہونے لگی ۔

امی :- عبد الله تم یہ بار بار کیا بول رہے ہو ؟

عبد الله : انما الاعمال بالنيات

امی : ہاں ہاں بابا! پر بتاؤ تو سہی کہ یہ بار بار کیوں دوہرا رہے ہو ؟

عبد اللہ بولا " امی ہمارے استاد ہیں وہ روز جب بھی پڑھاتے ہیں کہیں نہ کہیں سے کسی بھی 
Chapter
 اور کسی بھی 
Topic
 میں نجانے کیوں پر یہ الفاظ لے ہی آتے ہیں۔ ۔ ان کا کوئی بھی لیکچر جیسے اس کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔

عبداللہ کی امی ذرا حیران ہوئیں اور سبزی کاٹتے ان کے ہاتھ رُک گئے ۔ انہوں نے سبزی میز پر رکھی اور غور سے سننے لگیں۔

عبد الله: عجیب ہیں یہ استاد بھی ، دکھنے میں تو بڑے دنیا دار سے لگتے ہیں پر ان کے خیالات بڑے ملا
 Type
 ہیں۔


 امی: ایسا کیوں بول رہے ہو ؟ ظاہر سے کیا ہی پتا چلتا ہے کہ کوئی انسان اندر سے کیسا ہے؟ 

عبد اللہ کو جیسے جھٹکا لگا ۔ 

عبد الله : ہا؟ یہی تو وہ کہتے ہیں۔ آپ نے بالکل ان کے جیسے لفظ کیسے بولے؟ وہ کہتے ہیں سب کاموں کا دارو مدار ہماری نیت پر ہے ۔ یعنی جیسی ہماری نیت ہوگی وہی تعین کرے گی کہ نتیجہ کیا نکلنا ہے ۔ عجیب

امی:- اور کیا کیا کہتے ہیں استاد جی؟

عبدالله :
کہتے ہیں کوئی بھی کام کرنے لگو تو پہلے اپنے اندر جھانکو
اور دیکھو کہ اس کام کے لیئے تمہاری نیت کیا ہے؟

امی: ہاں اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے یہ تو اللہ کی طرف سے ہی فرمایا گیا ہے لیکن مجھے ابھی تک بات صحیح سے سمجھ نہیں آئی ۔

عبد الله :- استاد کہتے ہیں کہ مثال لو کہ اللہ نے کچھ کاموں کے بدلے شہادت رکھی ہے ۔
جہاد میں رکھی ہے ،حاملہ عورت کو حمل میں موت پہ رکھی ہے ، پیٹ کے امراض پہ رکھی ہے ۔ اسی طرح علم کے راستے یہ بھی شہادت رکھی ہے ۔

امی : ہاں بالکل یہ سب بھی سن رکھا ہے ۔ پھر آگے کیا کہتے ہیں؟

عبدالله :- کہتے ہیں سوچو تم لوگ ہر صبح اُٹھ کر یہاں پڑھنے آتے ہو ، میں ہر صبح یہاں پڑھانے آتا ہوں۔ تو سوچو کہ اگر کچھ ہو جائے ہماری موت آجائے تو کیا ہم شہید ہوں گے ؟

 امی : اللہ تم سب کو صحت زندگی دے۔ اللہ نے علم کے راستوں پر موت کو شہادت کا درجہ دیا ہے ۔ تو جو پڑھنے پا پڑھانے جاتا ہے اسے شہادت ہی ملے گی نا!!!!

 عبدالله:- نہیں امی !استاد ایسا نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں چاہے موت آجائے لیکن پھر بھی یہ دیکھ جائے گا کہ مرنے والے کی نیت کیا تھی۔ یعنی اگر تم گھر سے یہ سوچ کر نکلوگے کہ آج پڑھائی نہیںکریں گے کچھ نیا نہیں سیکھیں گے اور کھیل کود میں دن گزاریں گے تو نیت تو خراب ہے اور اگر میں یہ سوچ کر آؤں کہ آج تو پڑھانے کا دل نہیں کر رہا ، آرام سے چائے پیوں گا دن گزاروں گا اور واپس آجاؤں گا تو نیت تو پھر میری بھی خراب ہوئی۔
 ایسی صورت میں اگر موت آجائے تو کیا ہم شہید ہوں گے ؟

امی : - ارے ہاں ! یہ تو بڑی خوفناک بات بتائی انہوں نے ، یعنی ہم انما الاعمال بالنیات کو کتنا ہلکا لیتے ہیں۔ سوچتے بھی نہیں کہ اس کے کیا کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔

عبد الله :- لیکن دوسری ہی صورت بتاتے ہوئے استاد کہتے ہیں کہ اگر نیت اچھی بنائیں گے اور عمل بھی اس کے مطابق ہوگا تو پھر بشرط زندگی برکت ، رحمت اور رب کی رضا و خوشنودی بھی حاصل ہوگی اور اگر موت آجائے تو بھی کامیابی ہے انشاء اللہ یعنی شہادت ۔

ایسے بولتے ہیں استاد .

امی : واہ سبحان الله میں نے آج سے پہلے ایسے کسی سے نہیں سنا کہ نیت کس قدر ضروری ہے کسی بھی کام میں اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے۔
 تو عبدالله یہ استاد تو اچھے ہوئے نا پھر عجیب
کیوں لگتے ہیں؟

عبدالله : ارے امی آپ کو بھی ہر کوئی اچھا ہی لگتا ہے لیکن آپ خود سوچیں کہ جب
 syllabus 
میں اسلامیات کا
 subject
 موجود ہے تو بھلا ہر استاد کو کیا شوق چڑھا ہے ہر دوسرے
 Subject
 میں اسلامیات پڑھانے کا؟ اس لیے میں اور میرے دوست ان استاد جی سے ذرا چڑھنے لگے ہیں۔
 امی: بڑے عجیب ہیں آپ اور آپ کے دوست۔ آپ کی اس بات نے تو مجھے ہمارے ملک کے نظام تعلیم کے بارے میں اور بھی پریشان کر دیا ہے۔ یعنی ہم لوگ جو اپنے بچوں کو جوک در جوک اِن اداروں میں بھیج رہے ہیں وہاں ایسی ذہن سازی ہو رہی ہے ؟ 

عبد الله:- استغفر الله امی آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ کیسی ذہن سازی ؟ میں نے تو بس ایک بات کی ہے ۔

امی :- بیٹا باتیں ہماری ذہنیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ باتوں سے ہی پتا چلتا ہے کہ انسان کی سوچ سمجھ کیسی اور کتنی ہے۔ اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور ناپ تول کر بولنا چاہیے۔ 

عبد الله : میں اپنی بات اور آپ کی بات کا تعلق نہیں بنا پا رہا ۔ ذرا کھل کر بتائیں امی ۔

امی : تمہیں شاید معلوم نہیں ہو گا مگر پہلے میں بھی ایک سکول میں پڑھایا کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ ہمارا نظام تعلیم بہت بوسیدہ ہے ۔ اس میں جدت نہیں ہے، نہ ہی کوئی عملی تعلیم ہے ۔ مسلسل کئی سالوں سے ایک ہی طرح کا نصاب چھاپا جا رہا ہے جو نسل در نسل چلتا جا رہا ہے ۔ کوئی بچہ اگر سائنس کے مضامین رکھتا ہے تو اس کے 
Practical 
کو صرف کاپی بنانے اور 
Examiner 
کے اس کاپی کو پھاڑنے کی حد تک محدود ہیں۔ پھر بھلا ایسے نظام میں کیا ہی کام کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں نہ آپ خود کچھ سیکھیں نہ ہی آگے کسی کو کچھ سکھا پائیں اور نہ ہی کچھ بدل پائیں ۔ بس اسی لیے میں نے تمہاری پیدائش سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیا تھا ۔ "


عبدالله : امی یعنی آپ بھی ٹیچر تھیں ۔ بچے آپ سے بھی پڑھتے اور سیکھتے ہوں گے۔

امی: کیا ہی سیکھتے ہوں گے بیٹا یہاں تو سارا سال یہ دوڑ لگی رہتی ہے کہ جلدی جلدی نصاب مکمل کیا جائے پھر دو تین بار دوہرائی کروا کر بچوں کو
 Boards 
میں بھیج دیا جائے ۔ کیونکہ زیادہ سے زیادہ 
Marks 
چاہئیں اور 
Merit
 زیادہ سے زیادہ بنانا ہے ۔ ایسے ماحول میں کوئی کیا ہی سیکھے گا جہاں ہر سال بچوں کو لائق اور نالائق کے ڈبوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

 عبد الله : رک جائیں امی آپ نے تو 
System 
کا ہی تیا پانچہ کر ڈالا ہے۔ 

امی: اور سنو اور سوچو وہ بچہ جس کو ایک ۱۰۰ سال پرانی کتاب کو طوطے کی طرح کے رٹ لینے پر "لائق" کا تمغہ امتیاز ملتا ہے وہ خود کو اعلیٰ و عرفہ سمجھے گا وہ
 "System"
 کی فخریہ پیشکش بن کر ایسے ہی بغیر 
Creative Skills
 کے رٹے کی پٹڑی پر بہت آگے تک چلتا جائیگا۔

عبدالله حیران امی کو تکتا ہی جا رہا تھا کہ آخر اس نے آج امی کو کیسے
 Trigger 
کر دیا کہ وہ
 "Truth Bombs" 
پھینکتی ہی جا رہی ہیں۔

امی:۔ اور عبد اللہ مجھے تو اُس بچارے بچے کا دکھ زیادہ ہوتا ہے جسے نالائق کی کلنک ماتھے پہ چپکا دی جاتی ہے ۔ نہ تو اس کے ماں باپ نہ استاد اور نہ اس کے ارد گرد کے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے یہاں
 Proper Subject/Career Counseling
 کوئی کرتا ہی نہیں ہے ۔

عبد الله : امی نالائقی کا بھلا
 Career Counseling 
سے کیا تعلق ہے ؟

امی :- بہت گہرا تعلق ہے ۔ آپ مجھے بتائیں آپ کا پسندیدہ
 Subject 
کیا ہے ؟

عبد الله :- آپ کو معلوم ہے امی ہر بار ہی تو پوچھتی ہیں
 "Science"


 امی : بالکل ۔ تو جب آپ نے 
Subject
 رکھنے تھے تو ہم نے آپ کو
 Science 
ہی رکھنے دی ۔ میں نے نہیں کہا کہ بیٹا 
Math یا Computer
 رکھ لو۔

عبدالله - ایسا بھلا آپ کیوں کہتیں امی
 Subject 
تو میں نے پڑھنے تھے
 Field
 تو میں نے
 Choose 
کرنی تھی پھر آپ کیوں کہتیں ایسا ؟

 امی : بالکل ۔ آپ کو شاید ادراک نہ ہو لیکن آپ کی
 Choices 
شروع سے ہی 
Clear
 رکھی گئی ہیں اسی لیے صحیح وقت آنے پر آپ کو معلوم
 تھا کہ آپ نے کیا کرنا ہے آگے ۔ لیکن بہت سے بچوں کی Choice
 آپ کی طرح
 clear
 نہیں ہوتی۔ وہ جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کے والدین ایک خواب دیکھ لیتے ہیں، وہ انہیں وہ بنانا چاہیے ہیں جو وہ خود نہیں بن پائے ۔ وہ ان سے وہ کرنے کی امید رکھتے ہیں جو وہ خود نہیں کر پاتے ۔ اگر وہ بچہ ہاتھوں میں رنگ پکڑے تو ان کو اپنا خواب بے رنگ لگتا ہے وہ اس کے رنگ چھین لیتے ہیں کیوں کہ وہ اس کو 
Career
 نہیں سمجھتے۔ اگر وہ نصاب کے علاوہ کتابیں پڑھنے لگے کو وہ چھپا دیتے ہیں اور اس 
پہ الزام دھر دیا جاتا ہے کہ یہ وقت ضائع کرتا ہے ۔ وہ لکھنے لکھانے کا شوق پال لے تو اُنہیں اُس میں نا کام شاعر اور گمنام ادیب نظر آنے لگتا ہے ۔ کیوں کہ اُن کے مطابق وہ کامیاب انسان صرف ان کے خواب پہ چل کر یا ڈاکٹر پا انجینئر بن کر ہی بن سکتا ہے ۔ حالانکہ اگر وہ اس کو اپنی مرضی سے اپنا پیشہ چننے دیں تو وہ ان کے خوابوں سے بہتر انسان بن سکتا ہے۔

عبد الله : تو امی اور بندہ بنے تو کیا ہی بنے اس ملک میں آخر؟ آپ برا نہ منائیے گا مگر میری نظر میں جو اس ملک میں کچھ نہیں بن پاتا صرف وہی 
Teacher 
بنتا ہے ۔ کوئی بھی اپنی خواہش سے
 Teacher 
تو بالکل نہیں بننا چاہتا۔ نہ تو اس پیشے میں عزت ہے، نہ شہرت ، نہ پیسہ نہ کامیابی۔ یہ ناکام اور ٹوٹے خوابوں والوں کا پیشہ ہے ۔

امی : عبد الله ! مجھے آپ کی باتیں سن کر اتنی مایوسی ہوئی ہے کہ میرا جی چاہ رہا ہے آپ کی یہ
 So-called
 پڑھائی ہی چھڑوا دوں۔ میں اسی لیے آپ کو گھر میں خود سے پڑھانے کے حق میں تھی۔ لیکن 
Family Pressure
 کی وجہ سے بول نہیں پائی ۔ اگر یہ شعبہ ناکام لوگوں کا ہی ہے تو یہ جو 
Factories
 ہیں ڈاکٹر اور انجینیر بنانے کی یہ بھری کیوں پڑی ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنی ماؤں کی گود سے ڈگری لے کر آ رہے ہیں؟
کیا یہ بغیر 
Teachers
 کے کامیاب ہو رہے ہیں؟

Teaching 
ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے ۔ ہمارے اللہ نے پیغمبروں کو
 Teacher 
بنا کر بھیجا تھا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس شعبے کا حق نہیں ادا کر پائے ، اس کی اصل نہیں سمجھ پائے ۔
 گرتے اقتصادی حالات میں لوگوں نے
 Education
 کو کاروبار بنا لیا ۔ گلی محلوں میں سکول اور کالج کھلنے لگے اور بے روز گار لوگ جن کا کوئی
 Jackpot
 نہیں لگا وہ مجبوراً یہاں پڑھانے لگے ۔ اسی لیے اس شعبے میں پیسہ نہیں ہے کیوں کہ
 Private Sector
 میں لوگوں کو اونے پونے داموں میں Hire کیا جاتا ہے۔ اس سب کا اثر پورے کے پورے سسٹم پر پڑا ہے ۔ سرکاری اداروں میں اگر
 Merit based selection 
ہے تو وہاں اپنے بچے پڑھانے کو کوئی تیار نہیں ہے ۔
تو بات گھوم پھر کر آگئی آپ کے استاد جی
کی بات پہ " انما الاعمال بالنیات "

جب یہاں اتنی مادہ پرستی ہے ، سوچ کا اتنا فقدان ہے۔ ذہنی پستی اور نفسا نفسی ہے تو پھر بھلا برکت کہاں سے آئے گی؟؟؟
جب تقاضا صرف پیسے سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں ہے تو پھر اچھے معاشرے اور اقدار کی پرواہ ہی کسے ہے؟
 یہ بوسیدہ نظام پہلے ہمیں متاثر کرتا رہا اب ہماری اولاد کو متاثر کر رہا ہے اور ہمیں اس کا ادراک تک نہیں ہے۔ یہ نظام مادہ پرستی سکھاتا ہے ۔ تعلیم کا مقصد ہر گز یہ نہیں تھا ۔ تعلیم کا مطلب چھپی چھپائی کتاب رٹ کر آگے جھریٹ دینا نہیں تھا ۔

تعلیم یعنی علم میں تو ایک جذب ہے ۔ ایک کیفیت ہے ایک اثر ہے جو روحوں میں اتر جائے ۔ جو ذہن کے گوشوں کو روشن کر دے جو بند کھڑکیوں کے قفل توڑ پھینکے۔ جو ہر روز ایک انسان کو احساس دلائے کہ اُس کا آج گزرے کل سے بہتر ہے اور آگے کل وہ آج سے بہتر انسان ہوگا۔ علم تحقیق سکھائے ، تدبر سکھائے ، تفکر سکھائے ذوق نظر دے ، لطف اثر دے ۔

یہ کیا بوسیدہ نظام ہے جو گنتی کے دس سے پندرہ سائنسدانوں پہ محیط ہے؟ اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ دس سے پندرہ سائنسدان 
 1700 سے 1800 
کے بیچ میں ہی گزرے ہیں ۔ ان میں ایک قدر اور مشترک ہے۔ یہ سب کے سب 
"Atheist"
 ہیں۔ یعنی الحاد پسند لادین ۔ جو کسی خدا کتاب یا مذہب پر یقین نہیں رکھتے ۔ یہ نظام تعلیم سوچی سمجھی تدبیر کے مطابق بنایا گیا ہے۔

عبد اللہ جو پہلے شرمندہ تھا اب حیران ہوتا جا رہا تھا۔ اُس کی گھر میں بیٹھی سبزی کاٹتی ماں یہ سب کیسے جانتی تھی اور ایسا بھی نہیں تھا کہ ان کی کوئی بھی بات غلط تھی؟

Galileo, Rutherford, Newton, Einstein & Aristotle, Darwin, Lamarck, Marie Curie, Bohr, Dalton
کیا آپ ان سب ناموں سے واقف ہیں ؟

عبدالله -:- جی جی ان ہی کے ناموں سے تو ہماری سب
 Science 
کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ 
امی : کتنی محدود ہیں آپ کی سائنس کی کتابیں ہیں اور اُن کاعلم - صرف دو صدی پر محیط - کیا اُس سے پہلے علم نہیں تھا ؟ کیا اُس کے بعد کوئی عالم پیدا نہیں ہوا ؟ 

Gaber Haythem Avicenna

 کیا مجھے آپ ان کے اصلی نام بتا سکتے ہیں؟ یا ان کا
مکمل تعارف؟
عبداللہ :- معاف کیجئے گا امی پر یہ اپنے ناموں سے
 Latin یا Greek 
معلوم ہوتے ہیں۔

امی: جی جی آپ کی آدھی بات درست ہے یہ نام
 Latinized 
ہیں لیکن حقیقت میں یہ ابن سینا، جابربن حیان اور ابن الہیثم ہیں۔ 

عبد اللہ کی تو جیسے جتنی آنکھیں کھل سکتی تھیں اتنی ہی کھلی رہ گئیں اُسے آج عجیب عجیب انکشاف ہوئے ۔

امی : پیارے بیٹے یہ جو آج ناکام نظر آتی ہے امت مسلمہ ، جو مغرب سے اس قدر متاثر ہے کہ اپنا ملک تک چھوڑنے کو تیار ہے۔ اس کی تاریخ اتنی بھی ناکام اور تاریک نہیں ہے۔ صلیبی جنگوں کے دوران جب حملہ آور مسلمان علاقوں پر حملے کیا کرتے تھے تو سب سے پہلے وہاں کی لائبریریاں جلایا کرتے تھے ۔ قیمتی نسخے چرا لے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہاں کے دریاؤں کے رنگ سیاہی مائل ہو جاتے تھے جو کتابوں کے تلف کرنے سے اترتی تھی۔
 کیوںکہ خود 
1700 اور 1800
 تک مغرب جہالت میں غرق تھا۔ وہاں سائنس کو جادو اور کفر مانا جاتا تھا ۔ سائنسدانوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا تھا یا اُنہیں منہ چھپا کر بھاگنا پڑتا تھا ۔ جبکہ 14ویں 15ویں صدی میں بھی بغداد اور مسلمان علاقے علم کے گڑھ ہوا کرتے تھے۔ یہاں کے سائنسدان ساری زندگی علم کے نام وقف کرتے تھے۔ تحقیق پر سالوں سال لگا دیا کرتے تھے ۔
Printing Machines
نہیں ہوتی تھیں کتابیں ہاتھوں سے لکھی جاتی تھیں اور ان علماء کو اپنی کتابیں جان سے پیاری لگا کرتی تھیں۔ 
یہ آج کی 
Modern Sciences
 سب کی سب ان چرائے گئے نسخوں پر ہی کھڑی کی گئی ہیں۔ مغرب نے تہذیب کا جھوٹا لبادہ اوڑھنے کا سوچا تو سفید چمڑی کو اجارہ داری کا معیار بنا لیا۔ اس بے برکت سٹسم میں ظاہر اور ہے اور باطن اور ہے۔

انہوں نے تحقیق تو کی اور تہذیب بھی دکھانا چاہی پر اس شرط پر کہ اس میں سے مذہب نچوڑکو دیا جائے ۔ یہ سسٹم سیکولر 
( Secular)
 ہونا چاہئیے۔ اِس میں کسی بھی مظہبی کتاب یا مذہبی شخصیت کو شناخت نہیں دی جائے گی۔ 
اسی لئے انہوں نے مسلمان علماء اور سائنسدانوں کے نام
 Latinize 
کیے۔ افسوس کہ ہم خود بھی ان کے نام پڑھ کر بھی پہنچان نہیں پاتے۔

عبدالله :- امی اگر آج آپ مجھے یہ سب نہ بتاتی تو میں تو کبھی بھی جان نہ پاتا ۔ آپ کا بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں ۔

 امی بیٹا جی ! یہ جو آپ کو بہکے بہکے اور عجیب استاد لگتے ہیں اور یہ جو گھریلو امی ہیں ان کی قدر کریں ۔ استاد کی عزت کریں ان کے الفاظ پہ غور کریں ایسی باتیں آپ کو کوئی نہیں بتائے گا اس لیے ضروری نہیں اسلام یا تربیت کی بات صرف اسلامیات کی کلاس میں کی جائے ۔ ابھی ہیں کچھ لوگ جو مجبوراً اس سسٹم میں ہیں ۔ لیکن درد دل رکھتے ہوئے اپنے نرم لفظوں سے ننھے ذہن جگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحقیق اور سوچ آپ کو اس بوسیدہ سسٹم سے نہیں ملے گی۔ انہیں پہ کنارہ کرنا پڑے گا۔

عبدالله:- واقعی امی آج "انما الااعمال بالنیات" مکمل سمجھ پایا ہوں۔ مغربی سسٹم تو صرف روپے پیسے اور جھوٹی شان و شوکت کے گرد گھومتا ہے۔ جس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے انسان ختم ہو جاتا ہے ۔ نیت ہی مادہ پرستی ہوگی تو انجام بھی ایسا ہی ہو گا ۔

آج آپ نے میری سوچ کو نئی جہت دی ہے۔ اب سے میں سسٹم کے
 Loopholes
 پہ غور کروں گا اور ان کو خود پہ اثر انداز نہیں ہونے دوں گا۔

امی :- بہت اچھی بات ہے پیارے بیٹے ۔ اچھی نیت بنائیں گے تو اچھا اچھا ہی ہوگا انشاء اللّٰہ 

کہانیوں کے اس سلسلے میں آگے بات کریں گے خوراک کے فتنوں کے بارے میں جو آج پورے اوج پر ہے۔

کسی دانا کا قول ہے کہ دانشمند قومیں استاد کی قدر کرتی ہیں اور بیمار قومیں طبیب کی ! اس پر سوچیئے گا کیا ہم دانا ہیں یا بیمار؟ اپنے بچوں کو بتائیں کہ استاد بننا ذمہ داری کا کام ہے مجبوری کا نہیں۔ اور اسے شوق سے چیلنج لے کر اپنائیں۔

اللہ آپ کو سلامت رکھے اور ذہن کے گوشے جگمگاتے رہیں۔ آمین

والسلام 
سدرہ اسد

Comments

Popular Posts