فتنہ دجال کا فتنہ خوراک-1
گاؤں کے چوہدری صاحب کی بھینس کا نام "رجو" تھا۔ کبھی کسی نے اُسے رجتے نہیں دیکھا ۔ ڈبو، چوہدری صاحب کے ملازم کا کتا تھا، کُٹ کُٹ پڑوسی کی مرغی کا نام تھا اور بلوری "ہٹی والی مائی" کی بکری تھی ۔ ہٹی والی مائی جیسے پورے گاؤں کا ڈیپارٹمنٹل سٹور چلاتی تھی ، اس کا نخرہ اور ٹہکا بھی کچھ ایسا تھا ۔ دکان کے باہر ایک تھڑے پہ بیٹھی سبزی کو تازہ دکھانے کے لئے چھٹے مارا کرتی تھی۔
بلوری گلے میں گھنٹی کھنکھناتی سارادن سبزیوں کے چھلکوں
اور خراب سبزی پھلوں پر پیٹ پوجا کرتی رہتی۔
گاؤں خوبصورت تھا ، لوگ محنتی تھے اور چوہدری صاحب بھی دل
کے بڑے اچھے تھے ۔ بس چوہدری صاحب آج بھی زمانے سے قدم نہ ملا پائے تھے ۔ کھانے میں دیسی مرغی کھانا پسند کرتے تھے اور اگر کوئی ان کے سامنے
پولٹری فارم کی مرغی کا نام بھی لیتا تھا تو آگ بگولہ ہو جاتے تھے ۔ اُن کے گھر میں کچھ چیزوں پر سخت پابندی تھی ، نہ تو گھر میں
فارم کی مرغی آئے گی نہ ہی کھانا بناسپتی گھی میں پکے گا۔ رجو گھر کی ملکہ تھی کیوں کہ دودھ ، دہی، مکھن اور دیسی گھی تک وہ سپونسر کر رہی تھی۔ اس لیے چوہدری صاحب
اس کے خوب ناز اُٹھاتے تھے ۔ گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ وہاں ایک قدرتی تالاب تھا جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہوتا تھا ۔ دور دور سے لوگ اس تالاب کا پانی بھر بھر کر لے کر جایا کرتے تھے، ان کا ماننا تھا کہ اگر یہ پانی " آبِ حیات" نہیں ہے تو کم سے کم " آبِ شفا " تو ضرور ہے ۔ بانکے کا خیال تھا کہ یہ سب چوہدری صاحب کی برکت کی وجہ سے ہے کہ ہمارے گاؤں
کے تالاب کا پانی آبِ شفاء لگتا ہے۔
بانکے کے پوری دنیا میں صرف دو ہی رشتے تھے : ایک تھے چوہدری صاحب اور دوسرا ڈبو - بانکا اپنے نام کی طرح بس بانکا ہی تھا ، چوہدری صاحب نے اُسے بچپن سے اپنے گھر میں رکھا
تھا ۔ بانکے کی سب سے اہم ڈیوٹی ، رجو کا خیال رکھنا تھا ۔ہر شام بانکا ، رجو کو تالاب پر غسلِ صحت دلوانے اور کچھ کوالٹی ٹائم
کے لیئے لے جایا کرتا تھا۔ یہ ایک قابلِ دید منظر ہوتا ، جب رجو ماہرانی بنی آگے آگے چلتی ، پیچھے ڈبو ہوتا ، بلوری کو بھی مائی ساتھ لگا دیتی اور کُٹ کُٹ بھی ان کے ساتھ ہو لیتی ۔ شروع شروع میں بانکے کی یہ پلاٹون صرف انہی کارکنوں پر مشتمل تھی پر اس کی
اعلیٰ کارکردگی دیکھتے ہوئے گاؤں کے لوگوں نے اپنے قیمتی جانور بھی
اس کے پاس بھرتی کروا دیئے ۔ اب ایک جمِ غفیر
ساتھ لگائے بانکا بڑے دبدبے سے تالاب پر جایا کرتا تھا۔ تالاب پر پہنچتے ہی رجو پانی میں جا بیٹھتی ۔ کیوں کہ گاؤں میں شیر نہیں
تھا اس لیے ڈبو ہی اس گھاٹ پر بلوری کے ساتھ پانی پی لیتا۔
کُٹ کُٹ ادھر اُدھر چونچ مار مار کر کچھ نہ کچھ کھانے کو ڈھونڈ ہی لیتی ۔
اور اسی بابرکت تالاب کے ایک کنارے سے گاؤں کی عورتیں
گھروں کے لیے پانی بھرا کرتی تھیں ۔ گاؤں کے بچے اونچی جگہ سے
پانی میں چھلانگیں لگانے کا مقابلہ کرتے۔ ایک بڑے پیڑ کے نیچے شام کے وقت گاؤں کے مردوں کی بیٹھک جما کرتی تھی، خوش گپیاں
اور چائے چلا کرتی ۔ چوہدری صاحب کا بیٹا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ انگلینڈ میں رہتا تھا ۔ پہلے وہ شہر پڑھائی کرنے گیا ، پھر انگلینڈ بڑی ڈگری لینے اور وہیں شادی بھی کرلی
اور وہی دیس بنا لیا۔ وہ تو چوہدری صاحب کو بھی کہتا تھا کہ کیا رکھا ہے گاؤں میں، نکلیں یہاں سے
سے اور دنیا دیکھیں کہ اس نے کتنی ترقی کر لی ہے۔ وہ گاؤں کو فرسودہ اور غیر ترقی یافتہ سمجھتا تھا ۔ حالانکہ چوہدری صاحب نے اپنی کوششوں سے یہاں سرکاری سکول اور سرکاری ہسپتال تک بنوا لیا تھا۔ جسے وہ ترقی کا ایک بہت بڑا
سنگِ میل سمجھتے تھے۔ انہوں نے بارہا اپنے بیٹے کو کہا کہ بیوی بچوں کو لے کر آؤ
اور گاؤں دکھاؤ ۔ وہ آکر حویلی میں رہیں انہیں بھی پتا چلے تازہ خوراکیں اور صاف آب و ہوا کیسی ہوتی ہے۔ بس یہ اسی سال ہوا کہ آخر کار ان کے بیٹے کو یہ شوق آیا کہ اس کے بیوی بچے اُس کے پیدائشی گھر آئیں اور اس کے خاندان سے ملیں۔
گھر پہنچ کر جب ان کا سامان گاڑی سے نکالا گیا تو ساتھ مِنرل واٹر کی بوتلیں بھی تھیں ، بچوں کی کھانے پینے کی چیزیں اور ضرورت کی ادویات بھی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تھیں۔
چوہدری صاحب بہو اور بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور
انہیں لگا جیسے وہ پھر سے جوان ہو گئے ہیں ۔ بانکا شربت کے جگ اٹھائے باچھیں کانوں تک پہنچائے خوشی خوشی چلا آیا تو بہو بولی کہ
اس کے بچے یہ پانی نہیں پی سکتے ورنہ وہ بیمار پڑ جائیں گے۔ یہ بات گھر والوں کے لیے اور بانکے کے لیے نہایت نرالی تھی کہ آبِ شفا سے بنے اس شربت سے ان کے بچے کیسے بیمار پڑ سکتے ہیں؟ غرض جو بھی چیز پیش کرنے یا پکانے کا سوچا جاتا بہو رانی منع کر دیتیں کہ اُن کے بچوں کو کچھ ہو نہ جائے ۔ تالاب کے پانی پہ پابندی لگ گئی کہ ان لوگوں کا کھانا بھی بوتل کے پانی میں تیار ہو گا اور کچھ تو بہو رانی نے بولا کہ وہ بچوں کے لیے خود ہی بنا لیا کریں گی۔ غرض جب پہلے دن وہ باورچی خانے پہنچیں تو انہیں غشی کے دورے پڑنے لگے کہ وہاں کوکنگ رینج موجود نہیں تھا۔ لکڑی جلانے والا چولہا تھا جس میں لکڑیاں اور اوپلے جلائے جاتے تھے۔ اب اس عالم میں وہ کیا ہی کر پاتیں۔ الٹے پاؤں دوڑیں، چھوٹے چوہدری صاحب نے اُن کا احتجاج کچھ خاص خاطر میں نہ لاتے ہوئے بول دیا کہ جو بھی بنوانا ہو گھر کی ملازمہ کو بولو مل جائے گا۔
بانکا اپنی شام کی کاروائی پر جاتے ہوئے ایک دن بچوں کو بھی ساتھ لے گیا۔ بچے من کے سچے اتنے جانوروں کو کھلے عام اپنے
سامنے دیکھ ویسے ہی خوشی سے نہال تھے ، وہ تو گھوڑے اور گدھے کی سواری کے لیے بے تاب تھے ۔ انہیں کیا ہی پتہ تھا کہ اگر ان کی ماں نے یہ سب دیکھا تو بے ہوش ہی ہو
جائیں گی۔
تازہ دودھ، تازہ گندم ، زمین سے آئی تازہ سبزی، لَسی ، مکھن ، دہی اور دیسی گھی نے بہو کا دو دن
میں ہی برا حال کر دیا ۔ انہیں کبھی قبض کی شکایت ہو جاتی یا پیٹ خراب کی اور اس سب سے بھی بچ جاتیں تو متلی ہونے لگتی ۔ کیونکہ جیسے ہی وہ کھانا سامنے رکھتیں انہیں خیال گزرتا کہ یہ سب "اوپلوں" پہ پکا ہے۔ اول تو انہوں نے اوپلے کی سائنس کو سمجھا ہی نہیں تھا کہ آخر یہ کونسا ایندھن کا ذریعہ ہے جو آج
تک انگلینڈ بھی ایجاد نہیں کر پایا۔ یہ انکشاف تو ان پر تب ہوا جب ایک دن حویلی دیکھتی وہ "رجو" کے تبیلے جا پہنچیں۔
وہاں گوبر کا ایک ڈھیر لگا تھا جہاں سے ملازم اوپلے
Live
بنا بنا کر دیواروں پر لگا رہے تھے۔ ایک ملازمہ پہلے سے لگے تیار اوپلے ٹوکروں میں بھر رہی تھی۔ بس پھر کیا تھا بہو رانی کے تو اوسان خطا ہو گئے چھوٹے چھوٹے چوہدری صاحب کی شامت آگئی
"OMG! This is where you were brought up? Can you imagine these people? They Cook their food in so unhygienic ways, on "Cattle Cakes" can you imagine a Silly buffalow's Dunk! OMG OMG" Book the tickets back home, I can't Survive here!"
بڑے چوہدری صاحب تک بہو رانی
Panic Attack
کی خبر پہنچی تو گھبرا گئے ۔ سب ملازموں کی پیشی لگ گئی کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ بہو اتنی پریشان ہیں۔ لیکن نہ تو کوئی کچھ سمجھ پایا نہ کچھ سمجھا پایا۔
اُدھر بچوں کی الگ رونق چل رہی تھی ، بانکا ان کا
Tourist Guide
بنا ہوا تھا۔ وہ ٹوٹی اردو اور مکمل انگریزی میں نجانے کیا کیا بولتے اور بانکا ٹھیٹھ پنجابی میں اپنی ہی کہے جاتا۔
خیر طوفان کچھ تھما تو چھوٹے چوہدری صاحب نے
Picnic Plan
کر لی کہ بیگم ،بچوں اور دیگر گھر والوں کے ساتھ ایک دن اپنی زمینوں پر گزارا جائے ۔ سب بہت خوش ہوئے لیکن بہو رانی کو ابھی بھی کچھ
Reservations
تھیں۔
دور دور تک لہلہاتی فصلیں بہت خوبصورت لگ رہی تھی، بڑے بڑے درخت کھیتوں کے کنارے ٹھنڈے سائے پھیلائے ہوئے تھے جہاں کچے راستوں کی پکڈنڈیوں پہ چلتے بہو رانی کو اپنے
Sketchers
میں مٹی جانے کا خوف ستا رہا تھا۔ انہوں نے سر پر ایک بہت بڑا
Hat,
آنکھوں یہ چشمہ اور اس سب کے ساتھ ایک بہت بڑی چھتری سنبھال رکھی تھی۔ وہ گاؤں دیکھنے نکلے تھے اور گاؤں والے ان کو۔
ٹیوب ویل کے پاس پہنچ کر بڑی بڑی چٹائیاں بچھائی گئیں اور سب درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر ٹھنڈے تربوز سے لطف اندوز ہونے لگے ۔ بہو رانی اپنے لئے الگ بوتلوں میں
Artificial Flavor
کے مشروب بنا کر لائی تھیں, لہذا انہوں نے انہی پہ اکتفا کیا۔ جب کہ باقی سب
Unhygienic
لوگ تازہ لیموں کی سکنجبین پیئے جا رہے تھے ۔
بانکا بچوں کو اور چھوٹے چوہدری کو ٹیوب ویل پر نہانے کے فوائد بتا رہا تھا اور پھر سب نے ہی اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا ۔ ٹھنڈے پانی کے شور کو سُن کر پہلے بہو رانی بھی قریب چلی آئیں لیکن یہ دیکھ کر کے اس
Pool میں کتنی Algae
اُن کو طرح طرح کی الرجی کا خوف ستانے لگا اُن لاکھ منع کرنے پر بھی چھوٹے چوہدری اور مزید چھوٹے چوہدریوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔
جب سب لوگ دوبارہ اکٹھے بیٹھے تو پھر کھیتی باڑی پر بات شروع ہوئی ۔ چھوٹے چوہدری کا خیال تھا کہ زمینوں پر فصل بڑھانے کے لیے نئی "فرٹیلائزرز" استعمال کی جانی چاہئیں اور یہاں یر ہی ایک بڑا شہری فارم بنایا جائے جہاں
پر رجو کی برادری کی بہت سی اور مہارانیاں بھرتی کی جائیں۔ انہوں نے چوہدری صاحب کو بتایا کہ اب تو ایسی ایسی ادوایات اور ٹیکے آگئے ہیں جو بھینسوں اور گائے کے دودھ کی مقدار کو پلک جھپکتے میں بڑھا سکتے ہیں۔
چوہدری صاحب یہ نادر مشورے غور سے سنتے رہے ۔ پاس ہی کھیت میں ایک کسان کام کر رہا تھا ، چو ہدری صاحب نے اُسے آواز دے کر بلایا اور اسے کھانا دینے کو کہا۔
ملازمہ نے ایک چنگیر میں اس کے لیے کھانا پروس دیا۔
اب بہو رانی دیکھتی کیا ہیں کہ وہ کسان کھیت سے نکلا ہاتھ" جھاڑے اور پھر مٹی پر دونوں ہاتھوں کو مل کر قمیض سے صاف کیا اور پھر انہیں ہاتھوں سے ذرا ہٹ کر کھانا کھانے لگا۔
بہو رانی حیران تھیں کہ اب تک وہ جراثیم کے ساتھ سے ان لوگوں کے جتنے مظاہرے دیکھ چکی تھیں اب تک یہ لوگ لوگ زندہ اور تندرست کیسے تھے ۔ دیکھنے میں یہ کسان ہٹاکٹ ، اونچا ۔لمبا اور چھوٹے چوہدری سے زیادہ تندرست و توانا معلوم ہوتا تھا ان باتوں کا تال میل اُنہیں کچھ سمجھ نہیں
آیا تھا۔
حالانکہ خود بہو رانی کا تعلق پاکستان سے تھا لیکن ان کی پیدائش اور پرورش انگلینڈ میں ہونے کی وجہ سے انہیں یہ سب کچھ نیا اور عجیب لگ رہا تھا ۔ جب بات بالکل ہی سمجھ سے باہر ہوئی تو انہوں نے سوچا پوچھ ہی لیں۔
بڑے چوہدری صاحب اِس عجیب و غریب سوال پر دل ہی دل میں مسکرائے لیکن تسلی بخش جواب بھی دینا تھا۔ بہو نے پوچھا کہ آخر آپ لوگ اتنے جراثیم کھاتے پیتے اور اوڑھتے ہیں تب بھی آپ کے گاؤں کے لوگ صحت
مند کیسے ہیں؟
آپ کا کھانا جراثیم پہ پکتا ہے ، آپ لوگوں کا پانی گندا ہے ، آپ لوگ نہاتے بھی گندے پانی سے ہیں۔ بہورانی کے مطابق تو اس آبادی میں ہر شخص کو ہیضہ ، ملیریا ، بخار، نزلہ، خارش اور نجانے کیا کیا ہونا چاہئے، لیکن ابھی تک انہوں نے
ایک بھی ایسا شخص نہیں دیکھا ۔
چوہدری صاحب نے پوچھا کہ بہو رانی آپ کی بوتل میں کیا ہے؟ انہوں نے بتایا یہ مختلف رنگوں اور ذائقوں کے مشروب ہیں، ان میں
Vitamin C
سے لے کر مختلف
Electrolytes کا ایک
خاص تناسب ہے۔ تب چوہدری صاحب نے کہا کہ یہ آپ سے کس نے کہا؟ وہ حیران ہوئیں، ان کا کہنا تھا کہ ان سب مشروبات کی پیکنگ پر تمام اجزاء درج ہوتے ہیں۔ پھر چوہدری صاحب نے کہا کہ ضروری تو نہیں کہ اوپر لکھا ہے تو اندر موجود بھی ہو ۔ انہوں نے ایک لیموں اٹھایا اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہا اس پر کوئی اجزاء درج نہیں ہیں لیکن اس میں حقیقت میں
Vitamin C
موجود ہے اور جسم کی نمکیات کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے اس کی سکنجبین
سے اچھی کوئی چیز نہیں اور یہ قدرتی ہے ۔
بہو رانی اس بات پر حیران ہوئیں کہ یہ کیسی بات ہوئی بھلا ۔
چوہدری صاحب بولے کہ جس نے یہ لیموں بنایا ہے اسے آپ کو یقین دلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے اندر کیا کیا موجود ہے اس نے اپنی بے نیازی اور قدرت سے آپ کی صحت کے لئیے یہ سب اس میں رکھا ہے اور اس کے استعمال سے حقیقی توانائی ملتی ہے۔ کیونکہ وہ ہمارا رازق ہے، وہ ہمارا خالق ہے اس کو اس لیموں سے لے ہم تک سب کا پتہ ہے کہ اُس نے کس طرح
تخلیق کیا ہے وہ کن فیکون کا کہنے والا ہے ۔
بہو رانی نے استفسار کیا کہ اس بات کا بھلا
اُن کی بات سے کیا تعلق ہے؟ چوہدری صاحب بولے
بیٹا جی! آپ کی فیکٹریوں میں نجانے کیا کیا گھول کر نجانے کن حالات میں کوئی بھی شے تیار کی جاتی ہے اور سارا عمل پوشیدہ ہوتا ہے ۔ پھر جب وہ چیز بازار میں بِکنے آتی ہے تو انہیں طرح طرح کی تفصیل دینی پڑتی ہے ، قسمیں کھانی پڑتی ہیں کہ ہماری یہ پراڈکٹ صحت کے لیے
اچھی ہے ، یہ قدرتی اجزاء سے بنی ہے۔ خود پہ یقین دلانے کے لیے ٹی وی پر لوگوں کو رنگین کپڑے پہنا کر طرح طرح کے طریقوں سے ، ناچتے ہوئے گاتے ہوئے کبھی یہ شربت یا کبھی صابن ، کبھی سرف نجانے کیا کیا بیچے ہیں۔ اور اسی طرح کمزور دماغوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ کیونکہ اُن کی چیز پیکٹ میں بند ہے اس لیے جراثیم سے محفوظ ہے ۔ یہ آپ کو ترغیب دیں گے کہ تازہ دودھ نہ پیئو جراثیم ہیں ، تازہ لیموں کا شربت نہ بناؤ بلکہ ان کے پاؤڈر گھول گھول کر پی لو۔ اب مجھے بتائیں پیاری بہو رانی کہ کون سا مِل یا فیکٹری والا آپ کا چچا، تایا یا پھپھا لگتا ہے جسے آپ کی صحت
کا اتنا خیال ہو گا ؟ آپ ایک صابن اور ایک لیموں کے شربت کی پڑیا اٹھا کر موازنہ کریں تو ان کا دعوی
ہے ہزاروں لیموں کی طاقت والا
"Lemon Max"
جو کہ ایک صابن ہے ۔ جب کہ آپ کا یہ مشروب اس پیک پہ
"Artificial Flavor"
لکھا ہوگا۔ پیاری بیٹی اگر ان ترقی پسند شیاطین کو آپ کی صحت کی اتنی پرواہ تھی تو وہ ہزاروں لیموں جو انہوں نے. Lemon Max
میں برتن سے چکنائی دھونے کے لیے استعمال کئے تھے اُن میں سے سارے نہیں تو کم سے کم دو تین ہی آپ کے مشروب میں ڈال دیتے؟
بہورانی تو دنگ رہ گئیں کہ چوہدری ابا کی یہ بات تو 100% سچ تھی وہ اِس کا انکار کیسے کریں ؟ انہوں نے
تو اگر مگر کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہوں نے ایک نیا نقطہ اُٹھایا کہ چوہدری صاحب دیسی مرغی استعمال کرتے ہیں اور پولٹرے فارم کی مرغی منع کر رکھی ہے ۔ جب کہ وہ
بہت جلد اور آسانی سے تیار ہو سکتی ہے اس میں گوشت بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس سے بہت سی
DISHES
بنائی جاسکتی ہیں ۔ چوہدری صاحب بولے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ایک بڑے سرمایہ کار نے مجھ سے رابطہ کیا، کیونکہ علاقہ کی تقریبأ ساری ہی زمینیں ہماری ملکیت ہےں تو وہ یہاں ہماری زمین لے کر کچھ سرمایہ کاری کرنا چاہتےتھے۔
ملاقات ہونے پر پتا چلا کہ وہ پولٹری فارم کا کاروبار کرتے ہیں اور ویسے ہی فارم ہماری زمین پر بنانا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے ہمیں دو باتیں کہیں کہ یا تو منہ مانگی قیمت لے کر اپنی زمین ان کو بیچ دیں اور یا زمین بیچے بغیر ان کو اپنی زمین پر سرمایہ کاری کرنے دیں اور اس
کا ایک بھاری معاوضہ وہ ہمیں تاحیات دیتے رہیں گے۔ ہماری جگہ کوئی اور ہوتا جو مجبور ہوتا تو ضرور اس موقع کا فائدہ اٹھاتا
لیکن ہمیں ایسی نہ تو کوئی مجبوری تھی نہ ضرورت ، خیر ہم نے ان سے سوچنے کا وقت مانگ لیا ۔ اس دوران اپنی بیٹھک پر جب بھی گاؤں کے حکیم صاحب آتے میں ان سے دیسی مرغی اور پولٹری کی مرغی کے بارے میں سوال کرتا ۔
حکیم صاحب اپنے علم کے مطابق جواب دیا کرتے ۔ ان کی سادہ زبان کے مطابق دیسی مرغی کے اچھا اور صحت بخش ہونے کیلئے یہی کافی تھا کہ اُسے اللہ نے بنایا ہے ۔ جبکہ پولٹری
کی مرغی کو انسان نے چھیڑ چھاڑ کر کے اُس کا گوشٹ بڑھانے اور جلدی گلانے کیلئے رد و بدل کی ہے ۔ اُن کے خیال میں پولٹری کی مرغی جائز نہیں تھی یعنی وہ کہتے تھے کیونکہ اس مرغی کا نہ تو کوئی باپ ہے نہ شوہر لہذا یہ مرغی کھانا صحت کے لئے مضر ہو سکتا ہے۔ جس کا ادراک ایک دو دن میں ہونا ممکن نہیں۔ تو بیٹا جی اگر آپ پولٹری فارم یا اس مرغی کی دکانوں پر گھوم پھر کر دیکھیں تو آپ کو دکھائی دے گا
کہ ان کی ساری تعداد ہی صرف مرغیوں پر مشتمل ہے ۔ کیونکہ ان کے یہاں کوئی بھی مرغا نہیں پایا جاتا۔ ان کے بڑھنے کی وجہ ان ہی انڈوں سے مزید ویسی ہی مرغیاں بنانا ہے۔ ان کے بڑھنے کی وجہ قدرتی نہیں ہے ۔ یعنی جیسے دیسی مرغا اور مرغی ہوتے ہیں ان کے یہاں صرف مرغی ہوتی ہے ۔ یعنی ان میں
Genes
مکمل ایک آدھا حصہ موجود ہی نہیں ہے۔
بہورانی جو پہلے کچھ تذبذب کا شکار تھیں اب کچھ کچھ متاثر نظر آرہی تھیں کہ دنیا کہ ایک پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے بھی
ان کے سسر کافی کچھ جانتے ہیں۔
چوہدری صاحب بولے :- یہ سب کچھ مجھے حکیم صاحب نے بتایا۔ پر مجھے اپنی تسلی کے لئے ابھی اور بھی جاننا تھا ۔ اتفاق سے ایک دن گاؤں کے ڈاکٹر صاحب مجھ سے ملنے چلے آئے ۔ اب میں نے موقع غنیمت جانا اور گفتگو کے بہانے یہ سوال داغ دیا ۔ بس پھر کیا تھا
ڈاکٹر صاحب نے مجھے پولٹرے کی مرغی کے وہ وہ فضائل بیان کئے کہ کیا ہی بات ہے ۔ اُن کے مطابق دیسی مرغی میں سب کچھ ہی فارمی مرغی سے کم ہے۔ گوشت کم ہے ، ہئیٹ کم ہے، کوالٹی کم ہے۔ دیسی مرغی کی خاص مہک ہوتی ہے جو کھانے میں اچھی محسوس نہیں ہوتی ، اُس کی رنگت خراب ہے ۔ جبکہ فارمی مرغی میں گوشت بھی بھرپور ہے۔ اس کے گوشت کی رنگت بھی خوب ہے اور اس کی کوئی خاص مہک بھی نہیں ہے۔
جیسے چاہیں جب چاہیں بنا لیں ۔ فارمی مرغی پروٹین سے بھرپور ہے جو صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ اور بڑھتے بچوں کو خوب صحت اور توانائی بخشتی ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب کی سنی تو میری الجھن میں اور اضافہ ہو گیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ میرے مالک میرے الله کی مخلوق میں کوئی کمی ہو لیکن انسان کی بنائی چیز
اس سے بہتر ہونے کا دعویٰ کیا جائے ؟
بہو رانی بولی :-
چوہدری ابا ، آپ یہ بھی تو دیکھیں نا کہ اللہBut
نے Humans کو knowledge and wisdom ہے دیا
اور اسی سے اتنی ترقی ہوئی ہے
ہوئی ہے۔ Development
چوہدری صاحب بولے بالکل دیا ہے اور اسی عقل کو کچھ لوگ صحیح اور کچھ لوگ
غلط استعمال کرتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں اُن خوراکوں کو جو Genes
بدل کر بناتے
ہیں ؟
:بہو رانی
Gm Foods
یعنی
Genetically Modified Food
چوہدری ابا چیزوں کے
Genes
اس
طرح سے تبدیل کی جاتی ہے جس سے اُن کی کوالٹی اور
بہتر ہو جاتی ہے۔
چوہدری صاحب: اگر ایسا کرنا ہوتا تو اللہ خود ہی کر دیتا ، اللہ نے چیزوں کی مقدار . اور ذائقہ ایک خاص تناسب میں ہی کیوں رکھا ؟
بیٹا جی آپ کو پتا ہے اس زمین کی ہر چیز کا ایک دوسرے سے تعلق ہے ۔ یعنی جب رب نے انسان کو جنت سے غلطی کی پاداش میں اس زمین پہ بھیجا تھا اس سے بہت پہلے ہی انسان کا خمیر وہ یہاں سے اُٹھا چکا تھا ، یہ مٹی ہوا، پودے
درخت ، یہ جانور ، چرند پرند سب کے سب حتی کہ انسان کو بیمار کرنے والے جراثیم تک اس کی قدرت اور انسان کی فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ انسان نے کیا کھانا ہے کیا پچانا ہے سب قدرت کے
Manual میں درج ہے۔
آپ مجھے بتاؤ کہ الله نے تو ہاضمے کے لیے پیٹ کے اندر خاص اجزا رکھے ہیں تو جب انسان اپنی خوراک میں وہ کیا کہتے
Genes
جو آپ نے کہا کا بدلنا ، جب ایسا کرتا ہے اور انسان سوچے سمجھے بغیر کھا لیتا ہے کہ بدلی تو یہ چیز ہے
اس کے اندر موجود ہاضمے کا نظام تو نہیں بدلہ ۔ اس کے اندر موجود سب کچھ ویسا ہے جیسا رب نے بنایا پھر وہ کیسے سوچ لیتا ہے کہ ایک قدرتی چیز سے بدلی ہوئی چیز وہ کھائے گا تو اس کا معدہ اور جسم ان چیزوں کو سمجھ پائیں گے؟ یہ سب کثافتیں جو ایسی خوراک صحیح سے نہ ہضم ہو پانے کی صورت میں اس کے جسم میں ادھر
اُدھر اکٹھی ہوتی رہیں گی۔ اسی لیے تو
Cancer
اتنا بڑھ گیا ہے- معدے کا
Cancer جگر کا ،Cancer
، زنانہ مسائل کا امراض اور
(Cancer)
اور پھر ہم سوچتے ہیں کہ آخر کہاں پہ کچھ غلط ہو گیا کہ ہمیں
یہ عجیب و غریب بیماری ہوگئی؟
بہو رانی سکتے میں تھیں کیونکہ یہ سارے امراض اُن کے ملک میں وہ ہر دوسرے شخص میں دیکھتی سنتی آرہی تھیں۔ اور ان بیماریوں پر دنیا بھر کے ڈاکٹر اور
Researchers
تحقیق کر رہے تھے کہ ان کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ سب کچھ واضح تھا سامنے تھا پھر بھی جانتے بوجھتے یہ کیسی بھیڑ چال
تھی۔
چوہدری صاحب بولے ۔
پیاری بیٹی جگر اور لبلبے کا
Cancer اُن لوگوں میں
ہوتا ہے
جو شراب نوشی کرتے ہیں
لیکن اسلم میں شراب نوشی کی ممانعت ہے تو مسلمان کو منع ہے
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہاں بھی لوگوں میں یہ کینسر دیکھنے کو مل جاتا ہے ، اُن لوگوں میں جو شراب پینا تو کیا کبھی دیکھتے بھی نہیں ہیں ۔ پھر ایسا کیا ہے اُن کی
خوراکوں میں جو یہ بیماریاں کروا رہا ہے ؟
اب آپ سوچو کہ ایک زمین سے اُگا تازہ آلو ، اگر ملازمہ اس کو تل کر آپ کے بچوں کو دے تو آپ کو اس پر
اعتراض ہوگا لیکن آپ کو اُس پر اعتبار ہے جو آپ نے پیکٹ میں نجانے کب سے اُگی ، کب سے اس پیکٹ
میں پڑی آلو کی چیپس بچوں کے لیے رکھی ہے۔ آپ کو یہ سن
کر حیرت ہو گی کہ جو کمپنی مختلف سوڈا اور مشروبات بنا رہی ہے وہی یہ چپس بنا رہی ہے ، جو کمپنی
GENES
بدل رہی ہے وہی
Cancer
کا علاج کرنے والی
ادویات بنا رہی ہے ۔ کیا آپ تعلق سمجھ پائی ہیں؟
بہو رانی کو ایک اور جھٹکا لگا۔
یعنی چوہدری ابا آپ کہہ رہے ہیں کہ
Lays ، Pepsi, Coke
یہ سب بنانے والے ہی
Big Pharma
کو بھی چلا رہے ہیں ؟
چوہدری صاحب: بالکل ! بلکہ بالیقین ۔ ایک طرف پہ آپ کو رنگ اور ذائقہ دکھا کر زہر بیچتے ہیں اور جب وہ
زہر جسم میں پھیل کر بیماری بنتا ہے تو یہ اُس کا تریاق یا زہر مار بھی خود ہی اُٹھا کر مسیحا بننے پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں گاؤں میں دیکھیں ہر طرف ہریالی ہے ، لوگ زمین سے اُگی سبزی کھاتے ہیں ، یہیں پہ پلے بڑھے جانوروں کا گوشت ، دودھ اور انڈے وغیرہ استعمال کرتے ہیں اسی لیے کبھی ایسے امراض کا شکار نہیں ہوتے ۔
اگر اُس وقت میں ذاتی مفاد دیکھتے ہوئے اُس سرمایہ کار کو یہاں پولٹری فارمبنانے دیتا تو شاید میرے گاؤں کے لوگوں پر یہ بہت بڑا ظلم ہوتا ۔ یہاں آس پاس سب جگہوں پر فارم بنے ہیں لوگ وہ مرغی استعمال بھی کر رہے ہیں لیکن اس گاؤں میں نہ ہونے کی وجہ سے استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
Comments
Post a Comment