فتنہ دجال کا فتنہ خوراک ۔2
بہورانی : پر چوہدری ابا ہاتھ دھو کر کھانا تو اچھی بات ہے پھر
اس
Farmer
نے اپنے ہاتھ مٹی میں گندے کر کے اپنے کپڑوں
سے صاف کئے اور پھر ان ہی ہاتھوں سے کھانا کھانے لگا۔
یہاں گاؤں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ مٹی پاک ہوتی
ہے اس لئے وہ اس سے ہاتھ صاف کر لیتے ہیں ۔اور وضو کے وقت پانی نہ ہونے پر لوگ تیمم بھی مٹی سے کر لیتے ہیں۔ جب کہ آپ کی سائنس کہتی ہے کہ مٹی کے ایک ذرے میں لاکھوں جراثیم ہوتے ہیں ۔ جبکہ مٹی اور ہم ایسے اٹوٹ بندھن میں جُڑے ہیں کہ جب ہمیں دفنایا جاتا ہے تو ہم مٹی میں گُھل جاتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت
Submission
ہے اور انسان کی اس سے بڑی عاجزی کی مثال کیا ہوگی؟
بہورانی : Beautiful ، Wow . ویسے چوہدری ابا آپ کی
Qualification
کیا ہے ؟ آپ تو بہت باتیں جانتے ہیں اور ظاہر ہے یہ سب باتیں صرف ڈاکٹر اور حکم نے تو آپ کو سکھائی نہیں ہیں۔
چوہدری۔ بیٹا جی ہم پرانے دور کے
FA
پاس ہیں جو
آج کے MA کے برابر سمجھے جاتے تھے اور ہم ریٹائرڈ آرمی کپتان ہیں۔
بہو رانی: او مائی گاڈ!!!
That's enough surprises for today
چوہدری صاحب :- بیٹا جی ہم اپنی Choice سے گاؤں میں رہتے ہیں۔
آج دیکھتے نہیں ہو کہ یہ جو امیر لوگ ہیں اور
Elites
ہیں، یہ دور دراز جگہوں پر
Farm house
Beach اور Hill station
پہ Cottages
بنانے لگ گئے ہیں۔
آپ لوگ بھی تو وہاں انگلینڈ میں زندگی کی مصروفیات سے آنکھ چرا کر جاتے ہو نا گھومنے پھرنے سیر و تفریح کرنے ۔ تو بھلا یہ کیا ہے جو انسان کو چارو ناچار گھسیٹ کر قدرت کے پاس کھینچ لاتا ہے ؟ اب چتنی چاہے انسان
Technology
بنالے ، جتنی
Development
کر لے اسے زندگی گھوم گھام کر اپنے اصل پہ لے ہی آتی ہے ۔ یہ قالو بالا کا وعدہ
ہے ۔ یہ اُس کی روح کا اضطراب ہے جو اس خوبصورت پنجرے میں مقید ہے اور ایسی جگہوں پر جا کر یا رہ کر اسے لگتا ہے جیسے وہ اپنے اصل کے قریب ہے۔ یہ سکون اُسی اضطراب کی کمی ہے ۔ یہ جو آپ حیران ہو کہ Big Pharma اور خوراک کی Factory ایک ہی ہے تو کیسے ہے، یہ
Rothschild Rockefeller Mars
جیسے گنتی کے دو چار خاندان ہیں جو پوری دنیا کے وسائل پر قابض ہیں ۔ ہر بڑے کاروبار میں ان کی سرمایہ کاری ہے ۔ یہ فتنہ گر ہیں ۔ اسرائیل کی جاہو جبر سے بنائی ریاست اور فلسطین پر ہوتا ظلم یہ انہی کے مرہونِ منت ہے۔ ان کے سازشیں اور فتنے لامحدود ہیں اور لاتعداد ہیں یہ غیر انسانی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں کرتے ہیں ۔ یہ لوگ شیطان کے ہاتھوں اپنا سب کچھ بیچ بیٹھے ہیں۔ Media سے لے کر health dept اور ہمارے بچوں کی خوراک تک سب میں بالواسط یا بلاواسطہ گھسے ہوئے ہیں بلکہ
New World Order
بھی ان کا کیا دھرا ہے۔ صیہونی فتنہ اور خوراک کا فتنہ سب انہی مسخروں کا کھیل تماشہ ہے ۔
بہو رانی : چوہدری ابا یہ خوراک کا فتنہ کیا ہے؟
پیاری بیٹی آپ نے فتنہ دجال کے بارے میں تو سن رکھا ہوگا اور ہم مسلمان ان سب باتوں سے حدیث کی وساطت سے ہی جان پائے ہیں۔ حدیث میں ہی خوراک کے فتنے کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ دجال کے فتنوں میں ایک فتنہ خوراک کا فتنہ بھی ہوگا۔ اور یہ سب میل ملاوٹ اُسی کا حصہ ہے ۔ ان کے اپنے خاندان یعنی Rothschild وغیرہ کے خاندان میں جب کوئی بہو، بیٹی اُمید سے ہوتی ہے تو اس پر صحت کا خیال رکھنے کے لئے طرح طرح کی پابندیاں لگائی جاتی ہیں ۔ یعنی اُسے Alcohol پینا منع کر دیا جاتا ہے ۔ تازہ پھل ان کا رس ، خشک پھل طرح طرح کے قہوے اور ہر وہ چیز جو صحت کے لیے مفید ہے اور تازہ ہے وہ مہیا کی جاتی ہے ۔ اور ماں کے پیٹ سے ہی یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ بچے کو کون سے پیشے میں بھیجا جائے گا فرض کریں اگر اُسے وکیل بنانا ہے تو کہیں گے کہ ماں LAW یعنی قانون کی کتابیں پڑھے قانون کو سمجھے۔ اُسے ریاضی کے مشکل سے مشکل امتحان کو حل کرنے کو کہا جاتا ہے۔ اسے صحت بخش کاموں میں مصروف کیا جاتا ہے ۔ اور جو ان کے بچے ہوتے ہیں ان کو دنیا کے بہترین (ان کے مطابق) اداروں میں پڑھایا جاتے ہیں ۔ ان پر خود
Lays, Pepsi, coke
وہ الفاظ جو آپ نے بولے ، یہ سب ان کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ ان کے بچوں کو پیکٹ والی خوراک کھانا سخت منع ہے ۔ اُن کی جیب میں خشک پھل دیئے جاتے ہیں کہ پیکٹ والی چیپس نہیں کھانی۔ تازہ پھلوں کا رس دیا جاتا ہے کہ دوسرے بوتل بند مشروبات نہیں پینے ۔ ایک ایک بچے کو دنیا کی تین سے چار زبانیں سکھائی جاتی ہیں ۔ یہ لوگ دنیا اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہیں اور مذاہب کو بد نام کرتے ہیں جب کہ خود اپنے بنائے مذہب کے کٹر پابند ہیں۔
یہیں سے اندازہ لگائیے کہ ان کی سرمایہ کاری سے دنیا بھر کے لیئے Vaccines اور مختلف ٹیکے بنائے جاتے ہیں انہیں پوری دنیا کے بچوں کا اتنا خیال ہے ، لیکن خود جب Vaccine لگوانے کی باری آتی ہے تو یہودی کہتے ہیں کہ یہ اُن کے عقائد اور مذہب کے خلاف ہے ۔ کرونا میں ہر ایک کو Vaccine لگائی گئی لیکن یہودیوں یا صیہونیوں نے نہیں لگوائیں ، کیوں؟
ہم سب کا مذہب اور عقائد احتیاط اور علاج سے منع نہیں کرتے تو ان کے کیوں کرتے ہیں؟
کبھی آپ نے سوچا کہ یہ ساری Vaccine اور حفاظتی ٹیکے اور قطرے مفت کیوں لگائے اور پلائے جاتے ہیں؟ جبکہ باقی ہر ایک علاج اور دوا عام انسان کی بساط سے زیادہ مہنگی ہے؟
بہو رانی : چوہدری ابا ہم کیسے نہیں دیکھ ، سن اور سمجھ پاتے؟ سب کچھ ہم سب کے سامنے ہے تب بھی؟
چوہدری صاحب: کیونکہ بیٹا جی انہوں نے ہمارے ذہن ماؤف کر رکھے ہیں پر ایک دو جو رہ جائیں اُن کو یہ
Conspiracy Theorist
کہہ کر بد نام کردیتے ہیں ۔ یہ نفسیاتی طریقوں سے لوگوں کے نفس لالچ اور شوق کا فائدہ اُٹھا کر ان کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
بہورانی: آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں Exactly
I know کہ کس طرح سے Cult بنائے جاتے ہیں۔ دنوں میں ایک عام سے بندے کو اُٹھا کر Important بنا دیا جاتا ہے ۔ کیونکہ Media ان کا اپنا ہے اور پھر اُس شخص میں دنیا کی ہر خوبی دکھائی جاتی ہے۔ وہ کامیاب نے دکھایا جاتا ہے ، مشہور دکھایا جاتا ہے۔ اسے
Philanthropist
بنا کر لوگوں کا Savior بنا دیتے ہیں ۔ اور جب لوگ اس کے اثر میں بالکل fanatics بن جاتے ہیں تب جا کر وہ شخص اُن سے مرضی کے مقاصد پورے کرواتا جاتا ہے۔
چوہدری صاحب: دیکھا بہو رانی ایک اچھی گفتگو کا اثر ، اب آپ کے ذہن کے خاموش گوشوں میں پڑی الجھی ہوئی گتھیاں خود ہی سلجھنے لگی ہیں۔
ہمارے یہاں ایک خوبصورت وادی ہے "ہنزہ" اب آپ لوگ یہاں آئے ہیں پاکستان تو وہاں بھی ضرور جائیں اور دیکھیں کہ کتنی خوبصورت وادی ہے ۔
بہورائی: Sure wow ہم ضرور جائیں گے۔ But what so special about Hunza?
:چوہدری صاحب
ہنزہ کی خاص بات یہ ہے کہ کچھ سال پہلے وہاں تحقیق کی گئی جس سے پتا چلا کہ وہاں کبھی کسی مقامی کو کسی بھی طرح کا Cancer نہیں ہوا
It's Impossible بہورانی: یہ کیسے ہو سکتا ہے؟
تو ہر جگہ پھیلا ہوا ہے؟ Cancer
چوہدری صاحب: بس بیٹا جی قدرتی نباتات اور قدرتی خوراکوں کی برکت ہے اس علاقے میں جس نے اُن کی اچھی صدیوں پرانی عادات کی وجہ سے انہیں اس ناسور سے محفوظ رکھا ہے ۔
بہورانی : اب تو وہاں جانا ہی پڑے گا آخر معلوم
Miracle Science تو ہو کہ آخر ایسی کون سی
ہے جو اس ٹائم بھی اُنہیں
Survive
کروا رہی ہے ۔
اور بس پھر وہیں کھیتوں کے پاس بیٹھے بہو رانی کہ کہنے پر Picnic Plan
کر لی گئ۔
کہانیوں کے سلسلے کی شاید یہ سب سے لمبی کہانی ہے لیکن اس کہانی کی تفصیلات ابھی بھی ختم نہیں ہو پائی ہیں جس کی وجہ سے اس کی تمہید زیادہ لمبی ہوگئی ہے۔ اِس کہانی کو یہاں ختم کرتے ہوئے بتاتے چلیں کہ اگلی کہانی طِب اور
Allopathy
کے موزوں اور مضر اثرات کے بارے میں ہے۔
Comments
Post a Comment