System کا ڈبہ
ایک بار ایک قصبے میں ایک جادو گر آیا ۔ اس جادوگر کا حلیہ اتنا الگ تھا کہ کوئی بھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتا کر تھا۔ سر پہ لمبا سا
Hat ،
ایک لمبا سا سیاہ چغہ اور ہاتھوں میں ایک چھڑی ۔ جسے وہ بار بار ہوا میں علامتی طور پہ لہرا رہا تھا ۔ وہ جادو گر جب ایک بھیڑ والی جگہ آ کر رکا تو لوگ خود بخود اس کے ارد گرد اکٹھے ہونے لگے۔ کسی شخص نے اس سے دریافت کیا کہ تم کون ہو؟
اس نے کہا "میں جادو گر ہوں؟"
تو لوگ ٹھٹک گئے ۔ کچھ اُن میں سے اسے کرتب دکھانے کی فرمائش کرنے لگے ۔
مگر اس نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا-
"میں کوئی روایتی جادوگر نہیں ہوں۔ میں تم لوگوں کی زندگیاں بدل دینے کا کرتب جانتا ہوں۔"
سب لوگ حیرت میں مبہوت اُسے دیکھ رہے تھے کہ آخر یہ کیا بول رہا ہے۔ اس نے اپنی شاندار بگی پہ لادے سامان سے چادر کھینچی تو وہاں ایک بہت بڑا صندوق نما ڈبہ موجود تھا ۔
لوگوں نے پوچھا کہ آخر یہ ڈبہ ان کی زندگی کیسے بدل سکتا ہے ؟
جادوگر بولا :-
یہ ڈبہ
" System "
ہے ۔ یہ ایک ایسا
System
ہے جو تمہارے نادان سے نادان اور انتہائی شرارتی بچوں کو بھی سلجھا سکتا ہے-
کیا قبیلے میں نادان بچے موجود ہیں؟
جاؤ کسی ایک کو پکڑ لاؤ اور میں تمہیں یہ کچھ ہی دیر میں کر دکھاؤں گا"
لوگوں نے کچھ سوچتے ہوئے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔
ببلو قبیلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا ۔ سب ہی لوگ اس کی شرارتوں سے تنگ ہوا کرتے تھے۔ وہ درختوں پر چڑھتا، صاف دیواروں پہ رنگوں سے کچھ نہ کچھ اوٹ پٹانگ بنا کر خراب کرتا رہتا ، گاؤں بھر کی مرغیوں کے انڈے غائب کر کے ان کے چوزے نکالنے کے تجربے کرتا ، اپنی جماعت میں بیٹھا بجائے استاد جی کی سننے کے نجانے کیا چڑیا ، طوطا ، مینا اور
پھول بناتا رہتا ۔ روز ہی اس کے والدین کو اس کی وجہ سے خفت اٹھانا پڑتی تھی۔ کئی بار لوگوں نے اس کے والد کو شکایت کی اور وہ شرمندہ
ہوئے بنا بچارے کچھ نہ کر پائے۔
تو آخرکار قبیلے والوں نے بآواز بلند یہ فیصلہ سنایا کہ اس ڈبہ نما
" System"
سے سب سے پہلے ببلو گزارا جائے۔ اور جادوگر کو چیلنج کیا کہ اگر تم نے اس
بچے کو سدھار لیا تو ہم تمہیں حقیقی جادوگر مان لیں گے۔
اب جادوگر نے ڈبے کا دروازہ کھولا اور ببلو کو اندر بٹھانے کی دعوت دی ۔ ببلو کے والدین بہت گھبرائے ہوئے تھے کہ نجانے اس ڈبے میں ان کے بچے کے ساتھ کیا ہو جائے ۔ کیونکہ وہ ڈبہ ہر طرف سے بند تھا اور اس میں کہیں سے بھی روشنی داخل نہیں ہو سکتی تھی۔ اندھیرے ڈبے میں بند ہو جانے کے خوف سے ببلو کے والدین کا دم گھٹنے لگا ۔ لیکن جادو گر نے دعویٰ کیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کا بچہ زندہ سلامت باہر آئے گا۔
خیر ببلو کو کو ویسے ہی
Adventure
کا شوق تھا وہ خوشی خوشی ڈبے میں جا بیٹھا اور جادو گر نے ڈبے کا دروازہ بند کر دیا ۔ سب لوگ جو وہیں کھڑے تھے انہیں جادوگر نے کہا کہ وہ سب جا کر اپنے اپنے کام ختم کر کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ آئیں ۔ وہ ڈبہ تب ہی کھلے گا ۔ سوائے ببلو کے والدین کے سب ہی لوگ چلے گئے ۔ جادو گر بھی اپنا سامان وہاں چھوڑ کر قصبہ دیکھنے نکل لیا۔
ببلو کے والدین گھنٹوں بیٹھے اس ڈبے کو گھورتے رہے۔ اس
کی ماں کا دل طرح طرح کے وسوسوں کا شکار ہوتا رہا کہ کہیں ببلو بیہوش تو نہیں ہو گیا کیونکہ ڈبے میں سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی ۔ خیر وقت گزرتا گیا اور لوگ دوبارہ چوک میں اکھٹے ہونے لگا۔
اتنے میں اپنی چھڑی لہراتا ہوا جادو گر بھی ایک جانب سے آدھمکا۔
تو مہربانوں، وقت ہوا چاہتا ہے کہ ہم ہمارے
"Subject"
کو
"System"
سے باہر نکالیں۔ سب نے لفظ
"Subject"
کو نظر انداز کر دیا
لیکن ببلو کے والدین نہ کر پائے ۔ جادوگر نے ڈبے کا دروازہ کھولا ببلو انتہائی آرام سے باہر آیا۔ وہی ببلو جو کبھی اچھلتا کودتا ڈبے میں بیٹھا تھا اب انتہائی آرام سے باہر آیا اور سب کے سامنے نمائش کے لیے کھڑا ہو گیا ۔ اس کی شکل تو ببلو جیسی
تھی مگر جیسے وہ ببلو نہیں لگ رہا تھا۔
کیونکہ جس ببلو کو گاؤں والے جانتے تھے اس کے چہرے پر تو ہر وقت مسکراہٹ پھیلی رہتی تھی اور اس کی آنکھوں کی چمک میں شرارتیں ٹپکتی تھیں۔
مگر یہ کیا ، اِس ببلو کے چہرے پہ نہ مسکراہٹ تھی اور نہ ہی آنکھوں میں چمک اور رنگ بھی جیسے اُڑ گیا تھا۔ اس کے ماں باپ اس کو گلے لگانے کو لپکے تو بھی ببلو سیدھا کھڑا رہا اور اپنی جگہ سے ہلا تک
نہیں ۔ ببلو کے اتنے سنجیدہ رویے پہ گاؤں والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔ کچھ لوگ جادوگر کے کام سے
بہت متاثر ہوئے اور اپنے اپنے بچے پیش کرنے لگے کہ ان کو بھی ڈبے سے گزار دو یہ بھی مزید
"polish"
ہو جائیں گے ۔
ببلو بغیر کچھ بھی بولے گھر کی جانب اپنے والدین کے ساتھ چل دیا ۔ اُس کی چال ڈھال بھی کسی چھوٹے آدمی جیسی
لگنے لگی تھی۔
اس کی ماں سسک رہی تھی کہ جیسا بھی تھا اس کا بیٹا ہنستا بولتا تو تھا یہ کیا کر دیا ہے اس ڈبے نے کہ میرا بچہ نہ بول رہا ہے نہ مسکرا رہا ہے اور اس کے سارے رنگ
ڈھنگ اُڑ گئے ہیں۔
جادو گر کچھ دن اور رکا گاؤں کے سب ہی بچوں کو
System
سے گزار کر اس نے اپنی راہ لی۔
کسی کو کچھ
خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں سے آیا تھا بس وہ جہاں سے بھی آیا تھا وہیں لوٹ گیا۔
پر اس کے جانے کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ وہی قصبہ جہاں بچوں کی ہنسی اور کلکاریاں گونجا کرتی تھیں اب وہاں سناٹا تھا۔ کھیل کے میدان خالی پڑے تھے ۔ دیواروں پر اب کوئی رنگ نظر نہ آتا تھا ۔ درختوں پر پھل بھی جھول جھول
کر خود ہی گر جاتے تھے ۔ اب تو جیسے پرندوں نے بھی بولنا چھوڑ دیا تھا ۔ وہ سب پالتو جانور جن کا
خیال بچے رکھا کرتے تھے ان سے کھیلا کرتے تھے وہ جانور بھی مایوس نظر آتے تھے اور پھر رفتہ رفتہ وہ قصبہ ہی چھوڑنے لگے ۔ اب وہاں کے بچے وہی کرتے تھے جو اُنہیں کرنے کو کہا جاتا
تھا-
حالانکہ اس بات پر استاد اور والدین کو خوش ہونا چاہیے تھا مگر سب پھر بھی دکھی اور مایوس نظر آتے تھے کیونکہ اب وہاں کے کسی بھی بچے میں
کوئی تخلیقی ہنر نظر نہیں آتا تھا۔ کسی بھی بچے میں
Out of the box
سوچنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی تھی۔
تو جیسا کہ پہلی کہانی میں ذکر ہوا تھا
"Whats App"
کے بندروں کا ، خفیہ تنظیموں کا ویسا ہی
Concept اور
Agenda
ہے
"New World Order"
کچھ جادو گروں نے مل کر ایک نظام ایک
System
بنایا ہے اور اسی
System
کے ڈبوں میں پہلے ہمارے والدین کی پرورش کی گئی پھر ہماری اور اب وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں
بھی انہیں ڈبوں میں پلیں بڑھیں یعنی نہ کچھ دیکھیں ، نہ سنیں، نہ بولیں ۔ بس وہی دیکھیں جو دکھایا جائے ، وہی سنیں جو سنایا جائے اور وہی بولیں جو بتایا جائے ۔ یعنی یہ جو بڑے بڑے
Media Houses
ہیں
BBC, CNN, FOX NEWS
یہ سب ہی اس
System اور Agenda
کا حصہ ہیں۔
جو ایک سوچی سمجھی فہرست، لغت،
Script and Vocabulary
کے مطابق کسی دیو کے طوطے کی طرح بولتے ہیں ۔ اس وقت تک بار بار دوہرا کر بولتے چلے جاتے ہیں جب تک کہ سننے ، دیکھنے والے اسی فہرست
، Script,
اسی
Vocabulary
کو رٹ نہ لیں ۔
کرنے والے اپنا کام کرتے جاتے ہیں اور یہ طوطے لوگوں کے ذہن ماؤف کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ یہ فلسطین کی 7 سالہ بچی "ہند " کو ایک عورت بتاتے ہیں، یہ اسرائیل کے ظلم سے قتل ہوئے لوگوں
Collateral Damage
بتاتے ہیں ، یہ ہسپتالوں کی تباہی کو حماس کے ٹھکانے قرار دیتے ہیں ۔ مشرقی ممالک سے زیادہ برا حال تو خود مغربی عوام کا ہے جو ان طوطوں پر ایمان کی حد تک
یقین رکھتے ہیں۔ اصلی معنوں میں وہی
Whats App
کے حقیقی بندر ہیں جو
"System"
کے باہر نہ کچھ دیکھ پاتے ہیں نہ سن پاتے ہیں نہ بول پاتے ہیں ۔
ایک اوسط سفید چمڑی والے سے آپ کو گفتگو کر کے اندازہ ہوگا کہ وہ کس حد تک ذہنی پستی کا شکار ہے ۔ کیونکہ وہی ہیں جن کے
Pineal Gland
کی شروعات سے ہی
Chlorination
کی گئے۔
وه
Tax
دیتے ہیں اور اُسی
Tax
سے ان کی حکومتیں مسلمان ممالک میں جنگیں چھپڑتی ہیں۔ وہ سب کچھ دیکھتے سنتے بھی نہیں بولتے کہ جس
System
میں جہاں ان کو خود کا گھر بھی بغیر
Tax
کے بنانے کی اجازت نہیں ، ان کا بچہ قرض لیے بغیر ڈگری
University
کی ڈگری حاصل کر سکتا ۔ ایسے لوگ بجائے اپنا حق مانگنے کے اس بات پہ نازاں ہیں کہ ان کی کوشش اسرائیل جیسی
شیطانی اور صیہونی حکومت کا ساتھ دے رہی ہیں ۔ اسرائیل کی حیثیت دنیا کے نقشے میں کسی کرائے کےقاتل کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
صیہونیوں کی شروعات ہی
Free Masons
اور Allumnati
جیسی بدنام زمانہ اور گھناؤنی تنظیموں سے ہوئی ۔ خود جن کی شروعات معاشرے
کے دھتکارے ہوئے ایسے حرکاروں سے ہوئی جو روپے پیسے لے کر فتنہ گری کیا
کرتے تھے۔ جو جنگیں اور حکومتیں گرانے جیسی حرکتیں کیا کرتے تھے ۔
یہ شیطان کے حرکارے آج خود کو معزز ظاہر کرتے ہیں ۔ اور کم عقل لوگوں کے لئے انہوں نے
System
کا ڈبہ تیار کیا ہے ۔ جو انسان کے اندر سے اُس کی دور اندیشی ،اس کی تخلیقی صلاحییت ،
اس کی زندگی میں سے رنگ اور زندہ رہنے کا جذبہ تک کھینچ لیتا ہے ۔ ایسے انسان صرف
System
کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ یعنی وہ پیدا ہوتے ہیں۔ وہ
System
کے بنائے سکول میں
System
کے مطابق نصاب پڑھتے ہیں اور پھر اسی
System
کی
Machinery
کا حصہ بن کر اس کے کارخانہ
چلاتے ہیں ۔ پھر یہ یہی سب اسے اپنی اولاد کو وراثت میں دیتے ہیں ۔ یعنی
System
کی غلامی -
ایسے ماحول میں کوئی کیسے شاندار مصور بن سکتا ہے۔ نہ ہی کوئی مصنف نہ مکرر ، نہ موسیقار ، ایسے
System
میں سوچ پہ قفل لگ جاتے ہیں کوئی بھی تفکر ، تدبر اور تحقیق جیسے ہنر سے واقف تک نہیں ہو پاتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی اس ڈبے سے نکل کر اس ڈبے کے باہر سوچا ، اس ڈبےکے
مالکوں نے اس پر جینا تنگ کر دیا ۔ سقراط کو ملا ز ہر کا پیالہ ،
Van Gogh
نے خودکشی کی کوشیش کی ،
Galileo
کو وطن بدر کیا گیا،
Keats
کو
TB
کھا گئی،
Nostra Damus
کی دور اندیشی نے اس کا جینا مشکل کیا تو اس کو چھپ کر بھاگنا پڑا۔ یہ مثالیں تو خود مغرب کی ہیں ۔
آپ اب مشرق کی مثالیں دیکھ لیں ، صدام حسین نے مغرب کو للکارا تو اس کے اپنے لوگوںکے درمیان اس کو عبرت بنایا گیا ، مُرسی نے مصر کے لیے کیا کچھ نہ کیا تھی اس کے اپنے ہی ملک میں اُسے بدنام کر کے مارا گیا ، قذافی نے مسلم اُمہ کو جڑ جانے اور اپنی خود کی
Currency
بنانے کا کہا تو
System
نے اسے بھی اذیتیں دے کر مار ڈالا۔
یہ
System
کا ڈبہ آپ کی جان نہیں چھوڑے گا جب تک کہ سب لوگ اس کی ناکارہ اور بیکار، گھٹن زدہ قید کو توڑنے کا ادراک نہیں کر لیتے ۔ اس کا پہلا حربہ یہ ہے کہ اپنی آنکھیں ، کان اور زبان کھلی رکھیں۔ اپنے ذہن سے سوچیں
Out of the box
لکھنے والوں کی کتابیں پڑھیں ،
System
کے آگے نہ جھکنے والوں کی زندگی کا مشاہدہ کریں ۔ حق کیا ہے اور حق پرستی کیا ہے اس کے بارے میں خود کو روشناس کریں ۔
اپنے اندر کے انسان کو
System
کے ڈبے میں نہ ڈھلنے دیں۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو
پروان چڑھائیں۔
پاکستان میں
System
آپ کو دو ہی پیشے چننے کی
Choice
دیتا ہے یا تو ڈاکٹر بن جاؤ یا انجینیئر پر کتنا نامعقول اور احمقانہ
System
ہے ۔ اگر یہی دوڑ لگی رہی تو ہمارے ملک سے باقی سب پیشے اور ہنر ختم ہوتے جائیں گے۔
پچھلے 12 سال سے
"Education System"
کا حصہ ہوتے ہوئے یہی دیکھا ہے کہ ہر سال پاکستان میں ایک
"Subject"
اور ایک
"Field"
ختم ہوتی جا رہی ہے۔کیونکہ اس میں کوئی داخلہ نہیں لینا چاہتا کیونکہ انہیں لگتا ہے اس کے بعد انہیں "اچھی نوکری" نہیں ملے گی ۔ یعنی انہیں "اچھا پیسہ"
نہیں ملے گا۔
جو سسٹم آپ کو مادہ پرستی سکھاتا ہے اس سسٹم کو قدرت برکت کیسے عطا کر سکتی ہے ؟
اس پہ سوچیئے گا !
کہانی کے اگلے سلسلے میں اس پر بات ہوگی۔
اللہ آپ کو
'System'
کے زنگ سے
بچائے۔ آمین
It's a copyright intellectual property of the( writer, anything copied or forwarded would be considered crime and copyright infringement)
Reality...
ReplyDelete