اندر کا انسان

آج اُسے اپنا آپ
 Alien
 محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ خود کوئی ماؤف العقل مخلوق ہے۔ اسے حیرت تھی کہ کیا اس کے اردگرد کے لوگ یہ نہیں دیکھ پا رہے ۔ اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اُس کے کان ، ناک ، آنکھیں اور اس کے جسم کا خول بالکل مختلف ہے اس سب سے جو کہ اس نے اندر سے محسوس کر رکھا ہے۔

 اُس کی ہیئت آج اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا سر بہت بڑا ہے اور اس کے کان اور ناک بہت چھوٹے ہیں اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں جو اس کے اندر کے تاریک کمرے کے لیے کھڑکیوں کا کام کر رہی ہیں۔ اور اس کی اندر کی ذات ساری کی ساری سمٹ کر ان کھڑکیوں کے کنارے بیٹھی ، سہمی ہوئی باہر جھانک رہی تھی۔

اس کے ارد گرد سب موجود تھے ، شور و غوغہ تھا۔ ہنسی اور ٹھٹے تھے لیکن جیسے وہ خود کسی سکوت میں تھا ، اسے نہ آواز سنائی دے رہی تھی نہ ہی اپنے
اردگرد کا شور محسوس ہو رہا تھا ۔ 

اس کا منہ اُسے محسوس ہوا جیسے بہت چھوٹا سا ہے جو پوری طاقت لگانے پر بھی اتنے بڑے سر سے شاید ہی کوئی لفظ نکال کر آواز بنا پائے ۔ جیسے ہونٹ سکڑ کر صرف نتھنے جتنے ہو گئے ہوں۔ 

کتنا عجیب تھا یہ سب کچھ ۔ حالانکہ وہ روزانہ اسی کلاس میں اپنے تمام کلاس فیلوز کے ساتھ پڑھتا تھا ۔ روزانہ یہاں استاد کے جانے کے بعد ایسا ہی ماحول ہوا کرتا تھا ۔ لیکن آج جیسے وہ ماحول سے تعلق نہیں بنا پا رہا تھا ۔ وہ سب کے درمیان خود کو اکیلا اور بے پرواہ محسوس کر رہا تھا ۔ وہ صرف چاہتا تھا کہ آج کوئی اس سے بات نہ کرے اور اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا جائے ۔ وہ بیزار تھا ۔

آج اسے یہ عجیب تجربہ یہ سکھا گیا کہ اکثر ہم اپنے اندر کچھ بہت الگ اور عجیب محسوس کر سکتے ہیں۔ یعنی اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے یکسر مختلف ہے۔ تخیل کی دنیا ، مادہ کی دنیا سے بہت الگ ہے ۔

تو کبھی کبھی جب مادہ کی دنیا سے انسان اکتا جاتا ہے اور تھک جاتا ہے تو اس کی تخیل کی دنیا اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسا تجربی کسی بھی انسان کو کسی بھی طرح سے ہو سکتا ہے ۔

 ضروری نہیں کہ آپ جو محسوس کرتے ہوں اُسے آپ کے باہر کے لوگ دیکھ ، سن یا محسوس کر پائیں۔ آپ اپنا تعلق اپنی ذات کے ساتھ بنائے رکھیں ، اُسے مادہ کی دنیا میں مسلسل الجھا کر اکیلا مت چھوڑیں۔ 

بلکہ اسے بھی اپنے ساتھ شامل کریں ۔ بھلا کیسے؟
وہ ایسے کہ اپنے لیے وقت نکالیں وہ کام کریں جس میں آپ اپنے اندر تک خوشی اور سکون محسوس کریں ۔ غیر فطری اور غیراخلاقی چیزیں انسان کے اندرکی دنیا کو ٹھیس پہنچاتی ہے ۔ ہر انسان کو اللّٰہ نے خوب خوبیوں سے نوازا ہے۔ تو جب انسان روح کی دنیا سے دور مادہ کی دنیا میں الجھا رہتا ہے تو اس کی تخلیقی صلاحتیں
کم ہونے لگی ہیں۔ 

جسم میں ایک 
Gland 
یعنی غدود ایسی ہے جسے 
 Pineal Gland 
کہتے ہیں، اس کا سائز مٹر کے ایک دانے جتنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ چھوٹی سی غدود انسان کی
 Intuitive 
خصوصیات کو کنٹرول کرتی ہے ۔ یعنی ہم جو خواب دیکھتے ہیں، جو دور اندیشی ہے اور اکثر جسے چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ غرض یہ عجیب و غریب غدود ہمیں
 Parallel Universe 
سے جوڑے رکھتی ہے۔ وہ دنیا جو ہمارے ساتھ ساتھ ہے ، جو مادہ کی دنیا کی تعریف سے الگ ہے۔ بھلا آپ خواب کو مادہ کی کس تعریف سے ترتیب دے سکتے ہیں؟ ایسے ہی
 Pineal gland
 کی صلاحیت جب تک باقی ہے انسان کی الہامی صلاحیتیں چلتی رہتی ہیں۔

اگر کسی کی انسان کی خوراک میں
 flouride اور Chlorine
 کی آمیزش روز مرہ زندگی میں جاری رہے تو اس کے
 Pineal Gland
 کی
 Chlorination
 ہونے لگتی ہے۔ اور وہ سخت ہوتا جاتا ہے ۔ اس غدود میں سختی کے باعث یہ اپنی تمام تر صلاحتیں جن کا تعلق انسان کے شعور سے ہے، کھو دیتا ہے ۔

 دنیا میں ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو دنیا بھر کے وسائل پر صرف اپنا تسلط چاہتی ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔ فی الوقت اتنا جان لیں کہ انہوں نے اپنے اس مقصد کو "New World Order"
 کا نام دے رکھا ہے۔ اس کی
 تعمیل کسی اور کہانی میں رقم ہوگی ۔ ابھی کے لیے یہ جان لیں کہ عام انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بے حس اور بے کار کرنا بھی ان کے اس مقصد کا حصہ ہے۔ 

پیچھے جیسے ذکر ہوا کہ 
Pineal Gland
 کی
 Chlorination 
 کی وجہ خوراک میں مسلسل
 Chloride اور Flouride 
کی موجودگی ہے تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صبح اُٹھ کر جب ہم دانت برش کرتے ہیں تو اُس ٹوتھ پیسٹ میں
 Flouride 
شامل ہوتا ہے۔ اور جب تک انسان 
Mineral Water 
والے
 zone
 میں نہیں آیا تھا تب تک گاؤں کے ایک تالاب ایک کنویں سے جانور بھی پانی پیتے تھے اور انسان بھی ، پر آپ یہ دیکھیے کہ
 Mineral Water
 کو صاف شفاف دکھانے کے لئے اُس کی
 Chlorination
 کی جاتی ہے۔ یعنی 
"Chlorine"
 کے استعمال سے اُس کو شفاف
اور جراثیم کش بنایا جاتا ہے۔

 یہ دو بہت عام سی مثالیں ہیں جہاں ہم اپنے
 "System"
 میں بہت آسانی سے 
"Chloride & Flouride" 
شامل کر رہے ہیں۔ باقی غذا کا معاملہ الگ ہے نجانے اور کتنی طرح کے
 Chemical
 کیا کیا کرنے پھر رہے ہونگے ۔

آپ سب نے
 "Social Media App "WhatsApp" 
کا ذکر دیکھ سن رکھا ہو گا اُسی میں
 emoji 
کا آپشن بھی ہوتا ہے۔ وہاں مشہور و مقبول تین بندر ، جس میں سے ایک نے اپنی آنکھیں ، دوسرے نے اپنے کان اور تیسرے نے اپنا منہ ڈھک رکھا ہے۔ اب اس بات کا بھلا یہاں کیا تعلق بنتا ہے؟ 

 تو جناب پیچھے جن خفیہ تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے ان کا ایک اور شوق یہ ہے کہ وہ ہر جگہ اپنی کاروائی کا
 Symbol
 ضرور چھوڑتے ہیں۔ یعنی وہ خفیہ بھی رہنا چاہتے ہیں اور یہ چیلنج بھی دیتے ہیں کہ ہم اپنے
 Agenda 
پہ کار بند ہیں ہمیں روکا نہیں جاسکتا۔



تو آئی بات
 WhatsApp
 بندروں کی ، تو یہاں وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ عام عوام نہ تو کچھ دیکھے نہ ہی سنے اور نہ ہی بولے ۔ یعنی سب اندھے، گونگے بہرے ہو جائیں ان کے مقصد کے آگے۔ تو یہ عام عوام کی روز روز کی
 Chlorination
 جو کہ 
Pineal Gland 
کی 
intuitive 
خصوصیت کو دن بدن ختم کرتی جارہی ہے واضح نشانی ہے کہ وہ لوگ اپنے مقصد میں کتنا آگے بڑھ چکے ہیں

آپ اپنے اندر کے انسان سے تعلق بنائے رکھیے ۔ اگر کبھی کان بڑے، سر چھوٹا اور آواز غائب محسوس ہو تو سمجھ جائیے گا کہ اندر کا انسان 
Connect 
کر رہا ہے اور شکر ادا کیجئے گا کہ آپ کا 
Galnd Pineal
 ابھی بےکار نہیں ہوا۔

نیند بغیر خواب کے ، اچھی نہیں لگتی، انسان بغیر دور اندیشی کچھ نہیں ہے اور شعور کا ہونا نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔

 اللہ آپ کے اندر کے انسان کو قائم و سلامت رکھے اور آپ کی تخلیقی صلاحیتیں دن رات بڑھتی رہیں ۔ آمین



(کہا نیوں کے اس سلسلے کو جاری رکھیں گے جس میں خفیہ تنظیموں اور خوراک کے فتنوں کے بارے میں مزید بات ہوگی ۔)

واسلام
سدرہ اسد
Cydrah Asad




Material given here is Copyright reserved and intellectual property of writer ۔ Anything Copied or forwarded would be considered crime and Copyright infringement

Comments

Post a Comment

Popular Posts